حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی نے سامرا میں منعقد ہونے والی تین معروف مجالسِ عزا اور شیخ حسنعلی تہرانی کے ایک روحانی واقعے کا ذکر کیا ہے، جسے "سامرا میں تین مجالسِ روضہ اور شیخ حسنعلی تہرانی کا مکاشفہ" کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے۔
آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی فرماتے ہیں کہ انہوں نے یہ واقعہ مرحوم آقا مروارید سے سنا، جو اسے ایک معتبر شخصیت کے حوالے سے نقل کرتے تھے۔
ان کے مطابق سامرا میں تین بڑی اور اہم مجالس منعقد ہوتی تھیں۔ ایک مجلس مرجعِ تقلید آیت اللہ میرزا محمد حسن شیرازی کے گھر، دوسری محدثِ جلیل حاج میرزا حسین نوری کے گھر اور تیسری شیخ حسنعلی تہرانی کے گھر منعقد ہوتی تھی۔
آقا مروارید بیان کرتے ہیں کہ میرزا شیرازی کے گھر منعقد ہونے والی مجلسِ عزا کا ایک خاص رعب اور وقار تھا۔ جب میرزا مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو ان کی عظمت اور ہیبت اس قدر مجلس پر طاری ہوتی کہ لوگوں سے بھری ہوئی مجلس میں بھی مکمل سکوت محسوس ہوتا، گویا وہاں کوئی سانس لینے والا موجود نہ ہو۔ میرزا شیرازی کی شخصیت میں غیر معمولی وجاہت اور وقار پایا جاتا تھا۔
انہوں نے شیخ حسنعلی تہرانی کی مجلس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ مجلس میں تاخیر سے پہنچے۔ جب وہ اندر داخل ہوئے تو ان کی آنکھیں شدتِ گریہ سے اس قدر سرخ اور متورم تھیں کہ محسوس ہوتا تھا جیسے حدقۂ چشم سے باہر آ جائیں گی۔
بعد میں اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے شیخ حسنعلی تہرانی نے کہا کہ وہ اپنے گھر میں تھے کہ مکاشفے کی حالت میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی۔ انہوں نے دیکھا کہ سید الشہداء علیہ السلام کمرے کی کھڑکی سے اندر متوجہ ہوئے اور فرمایا:
"میری پیاس کا ذکر کرو۔"
یہ جملہ سن کر وہ بے اختیار گریہ کرنے لگے اور اسی کیفیت کے ساتھ مجلسِ عزا میں پہنچے۔
یہ واقعہ امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت، خصوصاً کربلا میں آپؑ اور اہلِ بیتؑ پر ڈھائے گئے مصائب اور پیاس کی شدت کی یاد تازہ کرتا ہے، جو مجالسِ عزائے حسینی کا ایک اہم اور اثر انگیز موضوع رہا ہے۔
ماخذ: آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی، "جرعہای از دریا"، جلد 3، صفحہ 347۔









آپ کا تبصرہ